کراچی (تجارتی نامہ نگار) پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے باوجود آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہے جس کے باعث کئی گیس اسٹیشنز پر پٹرول اور ڈیزل تاحال دستیاب نہیں ہے۔ آئل ڈیلرز نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فوری آڈٹ اور سپلائی میں کٹوتی اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے بھاری منافع کس نے کمایا اس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس واقعے سے نہ صرف صارفین بلکہ ڈیلرز کو بھی کافی نقصان ہو رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد ملک بھر کے آئل ڈیلرز پر اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔ پیٹرول پمپ مالکان کو اب پیٹرول اور ڈیزل خریدنے کے لیے تقریباً 3 کروڑ روپے فی پمپ کے اضافی سرمائے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباریوں کی کاروباری سرگرمیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔ حکومت اس عمل میں مارجن بڑھا رہی ہے لیکن آئل ڈیلروں کے مارجن میں اضافہ نہیں ہوا ہے اس کے باوجود کہ آئل ڈیلر کے مارجن کی منظوری کئی ماہ قبل دی گئی تھی۔ ایسوسی ایشن نے یاد دلایا کہ اس نے پہلے ہی حکومت سے درخواست کی تھی کہ موجودہ حالات میں تیل کی لیوی میں اضافہ نہ کیا جائے۔ پی پی ڈی اے نے خبردار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور قیمتوں کا موجودہ نظام پیٹرول پمپس پر دباؤ بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔ جھگڑے اور حادثات بھی ہو سکتے ہیں۔ پنجاب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گیس اسٹیشن پر جھگڑے کے دوران ایک ملازم جاں بحق ہوگیا۔
