ایران پر حملہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج، امریکہ کے 12 شہروں اور برطانیہ کے 70 شہروں میں

واشنگٹن+ لندن+ کراچی+ گجرات+ وزیرآباد+ میانوالی+ گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی+ نامہ نگار+ نوائے وقت+ آئی این پی) امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے خلاف امریکہ کے 70 شہروں، برطانیہ کے لندن سمیت 12 شہروں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کرائی گئی۔ ایرانی حملے کے خلاف امریکا اور لندن میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ امریکہ کے 70 شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نیویارک، بوسٹن، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر نکل آئے۔ لندن میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف ایرانی شہریوں نے بھی احتجاج کیا۔ لندن سمیت برطانیہ کے 12 شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ایرانی حکومت کی حمایت میں نعرے لگائے۔ ملت جعفریہ گجرات کی جانب سے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف تاریخی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں تمام مذہبی جماعتوں، سماجی جماعتوں، ماتمی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز، بینرز اور سپریم لیڈر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ پر کھلا حملہ قرار دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ حملہ صرف ایران پر نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ پر حملہ ہے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شیعہ علما کونسل کے صوبائی صدر علامہ سید اشتیاق حسین کاظمی نے کہا کہ شہادت سے شیعہ قوم کے عزم و حوصلے کو پست نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ہمارے اتحاد و بیداری کا باعث ہے۔ علامہ محمد اصغر یزدانی نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں۔ میانوالی محلہ ہاشم شاہ روڈ پر اہل تشیع نے ایک بڑا احتجاجی ریلی نکالی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، جلوس کے شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے اور ایران کی حمایت میں نعرے لگائے۔ شرکاء نے شہید ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اور ایران کی حمایت میں پلے کارڈز، بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کی قیادت اسلامک سینٹر کے سربراہ انتظار مہدی نجفی اور دیگر ممتاز شیعہ رہنما آغا مرتضیٰ شاہ، نثار عباس، وکلاء، علمائے کرام اور ذاکرین نے کی۔ جلوس بلوخیل روڈ پر چوک کچہری بازار کمیٹی سے ہوتا ہوا چوک ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ ایران پر امریکی جارحیت، جبر اور حملوں کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ جلوس کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ گوجرانوالہ میں شیعہ علماء کونسل پاکستان نے سید علی خامنہ ای اور دیگر کی شہادت پر امام بارگاہ خیالی دروازہ سے شیرانوالہ باغ تک پرامن احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی میں سید عابد حسین شیرازی، محمد مشتاق موکھڑ، محمد رضا نقوی، سید ثمر عباس نقوی، سید ظہور عباس شمسی اور بشارت علی، تنظیم کے عہدیداران، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ قرار دیا۔ حافظ آباد میں شیعہ جماعتوں کی جانب سے ایران پر اسرائیلی و امریکی مظالم اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مرکزی امام بارگاہ سے شروع ہو کر فوارہ چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور کہا کہ ایران پر حملے کم قابل مذمت ہیں کیونکہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ حافظ آباد کی مقامی بار ایسوسی ایشن نے ایران پر اسرائیلی اور امریکی مظالم اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف مکمل ہڑتال کی کال دی تاہم کوئی بھی وکلا عدالت میں موجود نہیں تھا۔ وکلاء کے ایک گروپ نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی شدید مذمت کی۔ وزیرآباد میں علامہ علی رضا الجولی نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کی مناسبت سے شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت المسلمین اور ملت جعفریہ کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی۔ اسریٰ ریلی کے دوران جامع مسجد علی شیعہ اللہ والا چوک پہنچا، جس کے بعد علاقہ بھر سے شریک علمائے کرام نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔ علامہ سید باد علی رضوی نے کہا کہ سید علی خامنہ ای کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلا پر نہیں ہو سکتا۔ عظیم الشان شہادت کے بارے میں عالم اسلام کی خاموشی عالم کفر کی طاقت ہے۔ علامہ صدا حسین ورک نے کہا کہ سید خامنہ ای اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کا نظریہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کھلی دہشت گردی ہے اور امریکہ نے مذاکرات کی آڑ میں ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مخالفت کی قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کرادی گئی۔ قرارداد جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی محمد فاروق نے جمع کرائی۔ کہا جاتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ قرارداد کے مطابق امریکہ اور اسرائیل عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ایران میں سکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ متن کے مطابق بچوں اور طلباء سمیت ہزاروں بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ اسرائیل ایک جابر اور غیر قانونی ریاست ہے۔ قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ متن کے مطابق بین الاقوامی قانون جنگ میں سربراہان مملکت کو نشانہ بنانے کی ممانعت کرتا ہے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بند کرے۔

Scroll to Top