رمضان آ گیا، لیکن کس عمر کے گروپ کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے؟ ماہرین نے ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے۔

لاہور (ویب ڈیسک) ایک انوکھی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں صرف ایک بار روزہ رکھنا یا بھوکا رہنا آپ کو صحت مند زندگی اور جوانی کی لمبی عمر گزارنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

طبی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، روزہ رکھنا، یا بھوکا رہنا زیادہ تر درمیانی عمر کے لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مطالعہ کے لیے، 18 سے 70 سال کی عمر کے 100 سے زیادہ رضاکاروں کا مطالعہ کیا گیا، انہیں گروپوں میں تقسیم کیا گیا، اور انہیں غذائیت دی گئی۔

ڈان نیوز کے مطابق، ماہرین نے مطالعے کے دوران کسی بھی گروپ کے روزمرہ کے معمولات میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر ایک کے پاس روزمرہ کی زندگی کے لیے درکار ہر چیز موجود ہو، جو ان کی غذائی ضروریات کے مطابق ہو۔ تین ماہ کی مدت کے ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ادھیڑ عمر کے لوگ جنہوں نے مہینے میں پانچ دن روزہ رکھا یا بھوکا رہے ان کی صحت بہتر تھی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے والوں کے خون میں شکر کی سطح بہتر تھی، جگر میں چربی نہیں تھی، سینے یا جسم میں جلن نہیں تھی، اور وہ تروتازہ محسوس کرتے تھے۔ ماہرین کے مطابق درمیانی عمر کے افراد مہینے میں پانچ دن یا ہفتے میں صرف ایک دن روزہ رکھ کر نہ صرف صحت مند رہ سکتے ہیں بلکہ جوان بھی رہ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں یا بھوکے رہتے ہیں وہ اپنی اصل عمر سے تین سال چھوٹے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ روزہ یا فاقہ کشی معمر افراد اور حاملہ خواتین کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے معمر افراد اور حاملہ خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزے یا فاقہ کشی کے بارے میں جلد بازی میں فیصلے نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top