کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر غور نہیں کیا، کامران ٹیسوری نے بڑی فراخدلی اور بڑے دل سے سب کو مبارکباد دی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے صدر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے جو آواز اٹھائی ہے اس کی سزا ہمیں ملنی چاہیے۔ ایم کیو ایم کے صدر نے کہا کہ انتخابات سے قبل وزارت تعلیم نے کہا تھا کہ یہاں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے گا۔ صوبہ سندھ کا تعلیمی بجٹ سب سے زیادہ ہے لیکن آج صوبہ سندھ سب سے زیادہ جاہل صوبہ ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے علاوہ یہاں کوئی تعمیر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ استعفیٰ دیتے رہنا ہماری روایت ہے۔ ہم نے حکومت کو بتایا ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کا گورنر ہونا روایت ہے اور سندھ کے شہری علاقوں کا اختیار ہمارے پاس ہے۔ حکومت کو اس پر بھروسہ کرنے کی ضرورت تھی، لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ درخواست کر رہے ہیں کہ عید سے قبل واضح بیان دیا جائے کہ نہ فوجی اور نہ ہی چور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں کی زمین گزشتہ 15 سالوں سے چھین لی گئی ہے، اور لگتا ہے کہ شہر کی زمین چھیننے پر قومی اتفاق رائے ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں محسن نقوی اور مراد علی شاہ نے بھی شرکت کی۔