بغیر تاریخ کے روزہ رکھنا معمول کی بات ہے لیکن اس کے سائنسی اور مذہبی فوائد کیا ہیں؟ آپ کو بھی کیا جاننے کی ضرورت ہے۔

لاہور (ویب ڈیسک) رمضان المبارک کے دوران دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھتے ہیں اور روزے کے دوران کھانے پینے سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق روزے کا دورانیہ طلوع آفتاب سے پہلے سحری کے بعد اذان فجر سے شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے بعد افطار کے ساتھ اذان مغرب پر ختم ہوتا ہے۔ اس لیے جیسے ہی مغرب کی اذان دی جاتی ہے، تمام مسلمان روزہ افطار کرنے کی تاریخ طے کرتے ہیں۔

مقررہ دنوں میں روزہ افطار کرنے کی ترجیح مذہبی اور سائنسی لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

اسلامی روایت میں کھجور سے روزہ افطار کرنا سنت سمجھا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کھجور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ خشک میوہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کھجور سے افطار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان افطاری کے بعد کھجور سے دوسرے کھانے کھاتے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین صحت بھی مقررہ تاریخ پر روزہ افطار کرنے کے بہت سے فوائد بتاتے ہیں۔

طویل روزہ تیزابیت کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ روزے کے دوران کھانے پینے سے پرہیز کرنے سے کچھ لوگ زیادہ کیلوریز والی غذائیں کھاتے ہیں جس سے ہاضمے کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

ایسی صورت میں جوجوب تیزابیت اور بدہضمی کو روکنے کے لیے ایک بہترین حل ہے جس سے جسم میں صفرا کا ارتکاز بڑھتا ہے اور معدے کو صحت مند رہتا ہے۔

جوجوبز میں پانی کی زیادہ مقدار جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

اس کے علاوہ کھجور صحت کے لیے ضروری غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہے، اس میں موجود پروٹین جسم کو فوری طاقت اور توانائی فراہم کرتے ہیں، جب کہ فائبر، آئرن، سوڈیم اور پوٹاشیم انسان کی مجموعی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس لیے مسلمان رمضان کے مہینے میں روزے رکھ کر اور سنت نبوی پر عمل کر کے اپنی جسمانی صحت کو فروغ دیتے ہیں۔

Scroll to Top