لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیزن 10 میں بطور کھلاڑی اور مینٹور شرکت پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا ہے۔ شعیب ملک کو شائقین اور بعض سابق کرکٹرز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ انہیں اب خود میدان سنبھالنے کے بجائے نوجوان کھلاڑیوں کی کوچنگ پر توجہ دینی چاہیے۔
43 سالہ شعیب ملک اس وقت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس سیزن میں اب تک دو میچوں میں صرف 14 پوائنٹس حاصل کر پائے ہیں۔ جب تک ٹیم کو اس کی ضرورت ہے وہ کھیلتا رہے گا۔ شعیب ملک نے کہا کہ پی سی بی کے ساتھ ان کا معاہدہ انہیں بطور کھلاڑی لیگ میں شرکت کرنے کے قابل بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت ہو میں بطور سرپرست اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہوں۔ میرے معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ میں کھیلنے کا اہل ہوں اور اسی لیے میں کھیلتا ہوں۔ شعیب ملک نے واضح کیا کہ ٹیم کی حکمت عملی تیار کرنا انتظامیہ کا کام ہے اور یہ کھلاڑیوں کا فرض ہے کہ جب بھی موقع ملے پرفارم کریں۔ ہمارا کام موقع ملنے پر کرنا ہے۔ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے اور بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ حیران ہیں کہ میں اب بھی کیوں کھیل رہا ہوں لیکن کوئی نہیں پوچھتا کہ قومی ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کو پورے پی ایس ایل سے کیوں باہر رکھا گیا ہے۔