کراچی (این این آئی) امریکی محکمہ خارجہ نے ایک ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانوں میں غیر ضروری سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی حیثیت بدستور برقرار ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی شروع ہونے کے بعد خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کا خطرہ برقرار ہے، جس کی وجہ سے تجارتی پروازوں میں بھی خاصی رکاوٹ آئی ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، امریکی حکام کے مطابق، احتیاطی تدابیر کو ضروری سمجھا گیا۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور شدت پسند گروپ کئی علاقوں میں حملے کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے بنیادی طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو رہے ہیں لیکن ماضی میں کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق ممکنہ اہداف میں ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹل، بازار، شاپنگ مال، فوجی تنصیبات، ہوائی اڈے، اسکول، عبادت گاہیں اور سرکاری عمارتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ ایڈوائزری میں احتجاج کے خلاف بھی انتباہ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں قانون کے مطابق اجازت کے بغیر احتجاج اور مظاہرے ممنوع ہیں، اور ایسے اجتماعات تک پہنچنے سے سیکیورٹی اداروں کی توجہ مبذول ہو سکتی ہے۔ امریکی شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ×××××× مواد پوسٹ نہ کریں کیونکہ یہ گرفتاری کا باعث بن سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ اور سیل فون سروسز کا بلاک ہونا عام بات ہے۔ جرائم کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔ اگرچہ بڑے شہروں میں سیکورٹی کے وسائل نسبتاً اچھے ہیں، لیکن جیب تراشی، بیگ چوری، اور سیل فون کی چوری جیسے جرائم عام ہیں۔ امریکی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان میں تعینات امریکی اہلکاروں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں اور انہیں مخصوص علاقوں میں سفر کے دوران مسلح سکیورٹی اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کرنا چاہیے۔