کراچی (ویب ڈیسک) بہت سے لوگ سحری میں زیادہ پانی پیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے وہ دن بھر پیاسے نہیں رہیں گے لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ سوچ کر کہ آپ کو دن بھر پیاس نہیں لگے گی، سحری میں زیادہ پانی پینا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آپ سحری میں بہت زیادہ پانی پیتے ہیں تو آپ کو بار بار لانڈرومیٹ جانا پڑے گا اور باقی پانی 1 سے 2 گھنٹے میں پیشاب کی صورت میں جسم سے باہر نکل جائے گا۔ سحری کے دوران پیاس بجھانے کے لیے صرف اتنا پانی پینا چاہیے۔ کیونکہ آپ کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت زیادہ پانی پینا پیٹ میں خرابی اور تیزابیت کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزے کی حالت میں پیاس سے بچنے کے لیے آپ کو اپنے جسم کو پسینہ آنے سے روکنے کے لیے سورج کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ روکنا چاہیے، کیونکہ پسینہ آنے سے پانی کی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خواتین گرم ماحول میں باورچی خانے میں کام کرنے سے گریز کریں، بالکل ضروری ہونے پر ہی چولہے کے قریب آئیں اور سبزیاں کاٹنے کے لیے پنکھے کے نیچے بیٹھیں۔

