فیصل آباد (آئی این پی) ماہ رمضان المبارک کی ولادت کی حتمی تاریخ اور وقت کے بارے میں تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں۔ ماہ شعبان کا پہلا عشرہ قریب آتے ہی ماہرین فلکیات نے اس کے ظہور کی پیشین گوئی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں ماہ شعبان شروع ہونے میں رمضان المبارک کی آمد میں صرف چند روز باقی رہ گئے ہیں۔ اسی مناسبت سے فیصل آباد سمیت دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں نے ماہ مبارک کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دیں۔ لاکھوں مسلمان بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مقدس مہینہ کب شروع ہوگا۔
ایک اہم سرکاری شخصیت نے سعودی عرب میں رمضان المبارک کے آغاز کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ سعودی شاہی خاندان کے مشیر اور سعودی علماء کونسل کے رکن شیخ عبداللہ بن سلیمان المنی نے کہا کہ فلکیاتی حساب کے مطابق یکم مارچ کو مملکت میں پہلا روزہ ہوگا۔ فلکیاتی حساب کے مطابق اس سال رمضان المبارک 29 تاریخ کو آتا ہے اور روزے کا آخری دن 29 مارچ ہے۔ اس لیے سعودی عرب میں عیدالفطر 30 مارچ کو ہونے کا قوی امکان ہے۔ جبکہ یہ بات سامنے آئی کہ سعودی سپریم کورٹ رمضان المبارک کے پہلے دن کا باضابطہ اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، بتایا گیا کہ ماہ رمضان کی ولادت جمعہ 28 فروری کو سہ پہر 3 بج کر 44 منٹ پر ہوگی۔
آج شام کو رمضان المبارک کا چاند غروب آفتاب کے 32 منٹ بعد بآسانی نظر آئے گا۔ دریں اثنا، ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال رمضان المبارک کا آغاز کچھ ممالک میں یکم مارچ اور دیگر میں 2 مارچ سے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک سمیت کئی مغربی اور یورپی ممالک میں پہلا رمضان یکم مارچ بروز ہفتہ کو آتا ہے۔عید الفطر 30 مارچ بروز اتوار یا 31 مارچ بروز پیر کو ہونے کا امکان ہے۔دریں اثناء ماہرین موسمیات کی جانب سے اہم پیش گوئیاں بھی جاری کر دی گئیں۔
اس سال روزے کا مہینہ سردیوں کے اختتام اور بہار کے شروع ہوتے ہی شروع ہوا ہے اور یہ پچھلے سالوں کی نسبت قدرے ٹھنڈا ہوگا۔ سعودی عرب، امارات، قطر، کویت اور مصر جیسے کئی عرب ممالک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں رمضان کے آغاز میں روزے کا دورانیہ تقریباً 13 گھنٹے ہونے کی توقع ہے۔